ابنا: پاکستان میں دہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد حکام اور سیاستدانوں کے بیانات میں اسطرح کے واقعات کو ملک وقوم کی دشمنی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس میں کوئی شک بھی نہیں تاہم ملک قوم کی دشمنی کے مرتکب ان افراد کو کہ جن کے غدار وطن ہونے میں کسی کو شبہ نہیں ہے کیفر کردارتک پہنچانے میں عدلیہ اور انتظامیہ اتنی بے بسی کا مظاہرہ کیوں کرتی ہے یہ بات ہر شخص کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایک سیاسی مذہبی جماعت، سنی تحریک کے سربراہ علامہ ثروت اعجاز قادری صاحب کے بقول دہشت گرد اب دفاع وطن کے ٹھیکیدار بن گئے ہیں۔
پاکستان کے مسائل پر نظر رکھنے والے مبصرین کا یہ ماننا ہے کہ پاکستان میں شیعہ اور سنی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے اور دونوں مکاتیب فکر کے لوگ علاوہ چند کج فکر اور پست عناصر کے برسہا برس سے ساتھ رہ رہے ہیں اور نظریاتی و فقہی اختلافات کے باوجود ان کے درمیان مفاہمت اور رواداری کا عنصرہر جگہ اور ہر موقع دیکھا جا سکتا ہے ۔ تاہم جس دن (5جولائی1977)پاکستان میں جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد پاکستان میں امریکی طرز کا اسلام نافذ کرنے کی کوششیں شروع ہوئیں اور اس مقصد کے لئے متعصب اور تنگ نظر اور نام نہاد علما کو جنرل ضیالحق نے اپنی سرپرستی میں لیا اوراسلام آباد ریاض اور واشنگٹن کی مثلث وجود میں آئی، اس دن سے پاکستان میں شیعہ کشی کا ایک عمل شروع ہوا کہ جس کا سنی مسلک سے کوئی تعلق نہیں تھا اوریہ ایک ایسی حقیقت تھی کہ جسے شیعہ اکابرین اور علما اچھی طرح سے سمجھ رہے تھے ۔
شیعہ اکابرین اور قائدین کی اسی سوجھ بوجھ کی بناپرشیعہ سنی مسالک کو آپس میں لڑانے کی سازش کامیاب نہ ہوسکی کہ جس کے لئے بلا شبہ ملت جعفریہ اور اس کی قیادت کو داد دینی چاہیے البتہ اس درمیان علما اہلسنت کا وه باشعور طبقہ بھی داد تحسین کا مستحق کہ جس نے اس سازش کو بھانپ کر تصادم اور ٹکراؤ کی فضا کو مفاہمت اور بھائ چارگی میں تبدیل کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ۔اس درمیان عوام کی نظر میں حکومتی اداروں اور عدلیہ کا کردار کبھی بھی قابل تعریف نہیں رہا اور معصوم اور بیگناہ انسانوں کے ورثا آج بھی انصاف کے تقاضے پورے کئے جانے کی آرزو لئے بیٹھے کہ کب ایک آزاد اور خود مختار عدلیہ کے ذمہ دار اپنی ذمہ داری کا احساس کرکے قاتلوں دہشت گردوں اور سب سے بڑھ کر ان کے سفاک سرپرستوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرکے ہزاروں خاندانوں کو پژ مردہ لبوں پر مسکراہٹ بکھیر تے ہیں۔ ........
/169